News in Brief

अणु ऊर्जा विभाग

azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال: چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹر کی ترقی

प्रविष्टि तिथि: 04 FEB 2026 6:26PM by PIB Delhi

جوہری توانائی کو ایک صاف اور قابلِ اعتماد توانائی ذریعہ تصور کیا جاتا ہے۔ پہلے سے استعمال شدہ صنعتی علاقے میں چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز کو کیپٹو پاور پلانٹس کے طور پر تنصیب کے لیے ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ توانائی کے زیادہ استعمال والے شعبوں میں تیزی سے کاربن اخراج میں کمی لائی جا سکے، ریٹائر ہونے والے حیاتیاتی ایندھن پر مبنی بجلی گھروں کو ازسرِنو استعمال میں لایا جا سکے اور ایسے دور دراز علاقوں میں جہاں گرڈ کنیکٹیویٹی موجود نہیں، توانائی کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز صنعتی شعبوں میں کاربن اخراج کم کرنے کے لیے ایک امید افزا ٹیکنالوجی سمجھے جاتے ہیں، خصوصاً جہاں بجلی کی مسلسل اور قابلِ اعتماد فراہمی درکار ہو۔

یہ ری ایکٹرز بڑی صنعتوں کے لیے نجی استعمال کیلئے بجلی گھر کے طور پر اور ریٹائر شدہ حیاتیاتی ایندھن پر مبنی بجلی گھروں کے متبادل استعمال کے لیے نصب کیے جا سکتے ہیں۔ بہتر حفاظتی خصوصیات کے باعث ان کے لیے درکار اخراجی زون کم ہوتا ہے، جس سے زمین کی ضرورت بھی کم ہو جاتی ہے۔ یہ ریٹائرڈ بجلی گھر اور آف گرڈ علاقوں میں تنصیب کے لیے بھی موزوں ہیں۔ چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز کو اس انداز میں ڈیزائن کیا جا سکتا ہے کہ وہ لوڈ فالو خصوصیات کے حامل ہوں، جس سے آپریشن میں لچک بڑھتی ہے۔ عام طور پر ان کی تعمیر کا دورانیہ کم اور سرمایہ جاتی لاگت نسبتاً کم ہوتی ہے، جبکہ ان کے ڈیزائن کو معیاری بنا کر سلسلہ وار پیداوار ممکن ہے۔

نیوکلیائی توانائی مشن کے تحت محکمۂ جوہری توانائی کے ذیلی ادارے بھابھا ایٹمی تحقیقی مرکز نے حال ہی میں درج ذیل چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز کے ڈیزائن اور ترقی کا آغاز کیا ہے:

  • 220 میگاواٹ الیکٹرک بھارت اسمال ماڈیولر ری ایکٹر (بی ایس ایم آر-200): تفصیلی منصوبہ رپورٹ کی منظوری دی جا چکی ہے جبکہ مالی منظوری کا انتظار ہے۔ مختلف قبل از منصوبہ سرگرمیاں جاری ہیں۔
  • 55 میگاواٹ الیکٹرک اسمال ماڈیولر ری ایکٹر (ایس ایم آر-55): اصولی منظوری دی جا چکی ہے اور ڈیزائن کی تفصیلات پر کام جاری ہے۔ بڑے پروٹوٹائپ آلات کی تیاری و ترقی جاری ہے۔
  • ہائیڈروجن پیداوار کے لیے 5 میگاواٹ تھرمل تک صلاحیت کا بہت زیادہ درجہء حرارت گیس کولڈ ری ایکٹر: تفصیلی پیش رفت رپورٹ تیار ہو چکی ہے، مالی و انتظامی منظوری حاصل کی جا رہی ہے اور ڈیزائن کی تفصیل پر کام جاری ہے۔

محکمۂ جوہری توانائی نے مقامی پریشرائزڈ ہیوی واٹر ری ایکٹرز کے تجربے کے ذریعے جوہری ایندھن کے مکمل فرنٹ اینڈ اور بیک اینڈ سائیکل میں مہارت حاصل کی ہے، جسے پریشروالے پانی پر مبنی چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ قدرے افزودہ یورینیم کو مجوزہ ری ایکٹرز کے لیے ممکنہ ایندھن تصور کیا جا رہا ہے۔ مقامی ایندھن کی صورت میں استعمال شدہ ایندھن کی پھر سے پروسیسنگ کے ذریعے قیمتی جوہری مواد کی بازیابی اور مجموعی جوہری فضلے میں کمی کی تجویز ہے۔

جوہری فضلہ انتظام کا بنیادی اصول وہی رہے گا جس میں مفید ریڈیو آئسوٹوپس کی بازیابی، فضلے کے حجم میں کمی، پھر مستحکم شیشے کی میٹرکس میں ویٹری فکیشن اور بین الاقوامی معیار کے مطابق انجینئرڈ سہولیات میں نگرانی کے تحت ذخیرہ شامل ہے۔ تاہم چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز کے لیے ایندھن کی ساخت کے مطابق دوبارہ پروسیسنگ ٹیکنالوجی کو ازسرِنو ترتیب دینے کی ضرورت ہوگی۔

محکمۂ جوہری توانائی کے پاس اس ٹیکنالوجی کی ڈیزائننگ اور ترقی کے لیے ضروری سائنسی و تکنیکی مہارت موجود ہے اور بیشتر آلات بھارتی صنعتوں کی پیداواری صلاحیت میں شامل ہیں، جنہیں بھابھا ایٹمی تحقیقی مرکز کی تکنیکی معاونت حاصل ہے۔ چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز کو پہلے سے استعمال شدہ صنعتی مقامات پر نصب کے لیے مخصوص اہداف کے ساتھ تیار کیا جا رہا ہے، جن میں ریٹائر ہونے والے حیاتیاتی ایندھن پر مبنی بجلی گھروں کا متبادل استعمال، توانائی کے زیادہ استعمال والے صنعتی شعبوں کے لیے ننجی استعمال کے بجلی گھر اور دور دراز علاقوں کے لیے آف گرڈ اطلاقات شامل ہیں۔

2047 تک 100 گیگاواٹ جوہری صلاحیت کا ہدف مقامی 700 میگاواٹ پریشرائزڈ ہیوی واٹر ری ایکٹرز اور نئے مقامات پر بڑے درآمدی جدید ری ایکٹرز کی تنصیب کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے، جبکہ چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز کو توانائی کے شعبے میں تیز رفتار ڈی کاربنائزیشن کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے۔

شانتی ایکٹ کے تحت کسی بھی فرد کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی اور تابکاری سے متعلق تحقیق، ترقی، ڈیزائن اور اختراع انجام دینے کی اجازت ہے، جس کے لیے لائسنس حاصل کرنا ضروری نہیں۔ اس اقدام کا مقصد ملک میں نئی ری ایکٹر ٹیکنالوجیز کی تحقیق، ترقی اور تنصیب کو فروغ دینا ہے۔

یہ معلومات وزیرِ اعظم کے دفتر کے وزیرِ مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے 4 فروری 2026 کو لوک سبھا میں پیش کیں۔

 

************

ش ح ۔   م د  ۔  م  ص

(U :    1664  )

(रिलीज़ आईडी: 2223425) आगंतुक पटल : 3

इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Urdu